بنگلورو، 28؍دسمبر (ایس او نیوز) جنتا دل(سیکولر)نے نومبر کے تیسرے ہفتے میں کولار ضلع کے مولابگیلو سے قدیم میسور کے علاقے میں پنج رتن یاترا کا آغاز کیا اور اس مہم کے تحت پارٹی نے اب تقریبا 40 دن مکمل کرلئے ہیں، جس کے نتیجے میں ریاست کے جنوبی علاقوں میں زبردست ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آ رہا ہے- سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے دعویٰ کیا ہے کہ پنج رتن یاترا قدیم میسور خطے میں کانگریس کے ووٹروں کی بنیاد کومتاثر کررہی ہے -سری رنگا پٹنہ میں جامع مسجد پر بی جے پی کے حالیہ دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے، سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "بی جے پی کی پولرائزیشن کی کوششوں کے باوجود جے ڈی (ایس)کو فائدہ حاصل ہوگا-قدیم میسور خطہ، جس میں غالب ووکلیگا طبقہ کی سب سے زیادہ آبادی ہے، اس طبقہ نے ہمیشہ سے جے ڈی (ایس) کا ساتھ دیا ہے-2018کے اسمبلی انتخابات میں، پارٹی نے میسور کرناٹک میں 61میں سے 27 سیٹیں جیتیں - تاہم، کتور کرناٹک اور کلیان کرناٹک میں، پارٹی 100 میں سے صرف چھ سیٹوں پر کامیابی مل پائی. مئی میں 2023 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے، جے ڈی(ایس) نے اپنے 93 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی ہے- ایچ ڈی کمارسوامی ریاستی دارالحکومت سے تقریبا 60 کلومیٹر دور چن پٹن حلقہ سے انتخاب لڑیں گے- ان کے بیٹے نکھل کمارسوامی رام نگر حلقہ سے انتخاب لڑیں گے، جو پہلے ان کی والدہ انیتا کمارسوامی کے پاس تھا- جے ڈی(ایس) کے امیدواروں کی پہلی فہرست میں شامل دیگر ناموں میں ریاستی پارٹی صدر سی ایم ابراہیم اور سینئر لیڈر جی ٹی دیوے گوڈا کے بیٹے بھی ہیں -